Home » » جمہوریت میں بجلی گیس کا کیا کام !

جمہوریت میں بجلی گیس کا کیا کام !

Written By Umair Ali Sarwar on Tuesday, January 1, 2013 | 10:34 PM


٭ کیپٹن صفدر کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمن نے اسلام کے نام پر بہت کچھ بنا لیا، عوام ان سے پوچھیں اسلامی نظام کیلئے انہوں نے کیاکیا؟
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ مولانا فضل الرحمن کی سیاست کو سمجھنا بڑا مشکل کام ہے کیونکہ وہ حکومت میں ہوتے ہوئے بھی اپوزیشن میں ہوتے ہیں اور اپوزیشن میں رہ کر بھی حکومت کر رہے ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ خود ان کی پارٹی کے لوگوں کو بھی پتہ نہیں ہوتا کہ وہ اپوزیشن میں یا حکومت میں۔ مولانا فضل الرحمن نے ایک ایسے طبقہ کو قابو کر رکھا ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمن سیاست میں نہ ہوئے تو شاہد اسلام کو کوئی خطرہ ہوگا۔ حالانکہ حقیقت یہ نہیں کسی کے ہونے ناں ہونے سے اسلام پر کوئی فرق نہیں پڑتا، لیکن کیپٹن صفدر دوسرے سیاستدانوں کے بارے میں بھی بتا دیتے کہ انہوں نے کیا سیاست سے کچھ نہیں کمایا، ہم نے ایسے سیاستدان بھی دیکھے ہیں جن کے پاس کھانے کیلئے ایک وقت کا کھانا نہیں تھا، لیکن آج وہ بھی کروڑوں روپے مالیت کے مالک ہیں پاکستان میں کرپشن اور سیاست لازم و ملزوم ہیں جو کرپشن نہیں کر سکتا وہ سیاستدان کہلانے کے قابل ہی نہیں اسی لئے جو جتنی زیادہ کرپشن کرتا ہے وہ اتنا ہی بڑا سیاستدان ہوتا ہے اور جو کرپشن نہ کرے اس کا اسمبلیوں میں کیا کام ہے ، ترقیاتی سکیموں کے نام پر سیاستدانوں کو جو فنڈز دئیے جاتے ہیں یہر شوت ہی تو ہوتی ہے ، جو سیاستدان اس کرپشن سے بچ جائیں وہ فرشتے ہوں گے سیاستدان نہیں۔
…٭…٭…
ہریپور میں ڈاکٹروں نے خاتون کو مردہ قرار دے کر گھر بھیج دیا راستے میں عزیز و اقارب کی چیخ وپکار سن کر خاتون کو ہوش آگیا۔
ڈاکٹر مسیحا کا کردار ادا کرتے ہیں لیکن جب ان کی فیس جیب میں نہ ہو تو پھر ان سے بڑا ظالم کوئی ہو نہیں سکتا کہ ان کے سامنے انسانی جان چلی جاتی ہے مگر یہ ٹس سے مس نہیں ہوتے ، اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس شعبہ میں بھی کرپٹ لوگ آگئے ہیں جو انسانی جان سے زیادہ پیسے کو حیثیت دیتے ہیں بعض اوقات تو ایسے مریضوں سے جان چھڑانے کیلئے زبردستی ڈسچارج کر دیاجاتا ہے حالانکہ یہ حقیقت ہے کہ اگر ڈاکٹر مریضوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئیں تو مریض کی آدھی بیماری دور ہو جاتی ہے ، مگر جہاں ڈاکٹر لٹیرے بن جائیں تو وہاں مریضوں نے مرنا ہی ہوتا ہے مگر اس کے باوجود اللہ تعالیٰ جسے نہ مارے تو ڈاکٹر کون ہوتے ہیں اس کی جان لینے والے ہریپور میں گردے کی تکلیف میں مبتلا ایک عورت کو لایا گیا تو ڈاکٹر نے اسے مردہ قرار دے کر واپس کر دیا، راستے میں مریض کے عزیز و اقارب کو جب موت کا علم ہوا تو وہ میت کے پاس آخر دھاڑیں مار مار کر رونے لگے ان کی چیخ و پکار سن کر عورت ہوش میں آگئی ، تو تمام لوگوں نے اسے زندہ پاکر خوشی کا اظہار کیا بلکہ ڈاکٹر بھی دوبارہ ہسپتال داخل کرنے پرمجبور ہو گئے کیا ہی اچھا ہوتا کہ ڈاکٹر مسیحا کا کردار ادا کرتے ہوئے پہلے ہی اس مریض کی نبض چیک کر لیتے اور ان لوگوں پر قیامت نہ گزرتی ۔
…٭…٭…
موبائل کال سستی اور آٹا مہنگا ہو گیا، پانچ روپے کلو والا آٹا40 روپے کلو جبکہ دس روپے والی کال دو روپے تک آگئی۔
ہم بھی عجیب قوم ہیں مہنگائی کیخلاف احتجاج کرنے کے بجائے سستی چیزوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنانا شروع کر دیتے ہیں بھلا موبائل کال سستی ہو یا مہنگی اس سے آٹے کا کیا تعلق کیونکہ آٹا ہر امیر غریب کی ضرورت ہے اور اسی پر انسانی زندگی کا انحصار ہے ، موجودہ حکومت نے غریب عوام کو ختم کرنیکا تہیہ کر رکھا ہے ، اسیلئے تو ہر اس چیز کی قیمت میں اضافہ ہو جاتا ہے جس کا حکومت کو پتہ چل جائے غریب استعمال کرتے ہیں موبائل فون اگرچہ زیادہ تر امیر لوگ ہی استعمال کرتے ہیں لیکن ان کے بہانے غریب لوگ بھی عیاشی کر لیتے ہیں حکومت نے کوشش شروع کر رکھی ہے کہ پیکج خت کر دیاجائے اور موبائل کال کرنے کی طرح سننے کے بھی چارجز ادا کرنا ہونگے ، ان دنوں رحمن ملک کو طاہر القادری نے مصروف کر رکھا ہے ورنہ یہ کام بھی کب کا ہو چکا ہوتا، اسلئے غریب لوگ بھی اگر موبائل کی عیاشی سے لطف انداز ہو رہے ہیں تو ان سے یہ حق نہ چھینا جائے کیونکہ آٹا تو سستا ہونا نہیں ہے اب مزید مہنگاہی ہوگا، سپریم کورٹ نے سی این جی سستی کروا دی تو حکومت نے سرے سے ہی سی این جی ختم کر دی ہے یہ نہ ہو کہ آٹا سستا کروانے کے چکروں میں اس کی بھی لائنیں لگ جائیں یا پھر ملے ہی نہ تو کیا کریں گے ۔
…٭…٭…
٭ گرمیوں میں بجلی اور سردیوں میں گیس کی لوڈشیڈنگ سے عوام عاجز آگئے ۔
کاش ہماری قوم یہ سمجھ لے کر اس ملک میں جمہوریت کے نام پر کیا گھنائونا کھیل کھیلا جا رہا ہے ، یہ جمہوریت ہی کے ثمرات ہیں کہ ملک میں کرپشن اور لوٹ مار کا ایسا بازار گرم ہے کہ امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوتا جا رہا ہے ڈھائی تین سالوں تک چلنے والی جمہوریت میں عوام کبھی اتنے رسوا نہیں ہوئے جتنے موجودہ جمہوریت کے پاس سالوں میں عوام کو رگڑا ملا۔ آج صورتحال یہ ہے کہ ملک میں جمہوریت تو ہے بجلی نہیں، جمہوریت تو ہے لوگوں کے گھروں میں چولہے ٹھنڈے ہو گئے ہیں جمہوریت تو ہے سی این جی پر گاڑیوں کی لائنیں لگی ہوئی ہیں جمہوریت تو ہے لیکن کبھی چینی کا بحران، کبھی آٹے کا بحران اور مہنگائی کرپشن لوٹ مار، قتل و غارت گری یہ سب کچھ تو جمہوریت میں ہوتے ہی رہتے ہیں ۔کیا صبح و شام جمہوریت کا راگ الاپنے والوں کو عوام کے مسائل کا بھی ادراک ہوتا ہے کہ عوام جمہوریت کی چکی میں کس طرح پس رہے ہیں پانچ سالہ جمہوریت عوام کیلئے اتنا بڑا عذاب بن چکی ہے کہ عوام کو دن کے وقت تارے دکھائی دے رہے ہیں گرمیوں میں بجلی اور سردیوں میں گیس کی لوڈشیڈنگ کے بجائے اب تو گرمیوں سردیوں میں گیس ہو گی نہ بجلی کیونکہ جمہوریت جو ہے ۔


0 comments:

Join us on Faceebook